بزدل

( بُزْدِل )
{ بُز + دِل }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان میں اسم 'بز' بطور صفت اور اسم 'دل' بطور موصوف لگنے سے 'بزدل' مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٨٠ء میں 'قمقام الاسلام" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
١ - بودا، ڈرپوک، کم ہمت، کم حوصلہ۔
'چپ، او قاتل، بزدل چپ، جس طرح تو نے مجھے جلایا ہے میں بھی تجھے جلاؤں گی۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ١٦٩ )