بزاخفش

( بُزِاَخْفَش )
{ بُزے + اَخ + فَش }

تفصیلات


فارسی اسم 'بز' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگا کر عربی اسم 'اخفش' لگانے سے مرکب اضافی 'بزاخفش' بنا اس ترکیب میں 'بر' مضاعف ہے اور 'اخفش' مضاعف الیہ ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٤٥ء میں 'کلیاتِ ظفر" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم معرفہ ( مذکر - واحد )
١ - نافہم، بے سمجھے بوجھے ہاں میں ہاں ملانے والا (کہا جاتا ہے کہ اخفش نے (جو عربی علم نحو کا استاد کامل گزرا ہے) طالب علمی کے زمانے میں ایک بکرا پال رکھا تھا اور ہر روز اپنا سبق اسے سنایا کرتا تھا، جب تک بکرا گردن نے ہلا دیتا یا گھبرا کر بول نہ اٹھتا اخفش سبق سنانا بند نہ کرتا)۔
'یہ میری غلط تدبیری (تھی) جو میں نے ایسے بنے بنائے کام کے لیے تم جیسے بزاخفش کو ایلچی بنا کر بھیجا۔"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، لیلٰی دمشق، ٨٣ )