پر نم

( پُر نَم )
{ پُر + نَم }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی میں صفت 'پر' کے ساتھ مصدر 'نمیدن' سے مشتق فعل امر 'نَم' بطور موصوف ملنے سے مرکبِ توصیفی بنا۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو 'کلیاتِ ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - (بیشتر آنسوؤں سے) تر، بھیگا ہوا۔
 یاد آئی جب غم ساقی میں ہم کو مے کشی چشم پُرنم بن گئی لبریز ساغر کا جواب      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٦٧ )