بل[1]

( بَل[1] )
{ بَل }
( سنسکرت )

تفصیلات


اصلاً سنسکرت کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے ارود میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اور اصلی معنی میں ہی اردو الخط میں مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء میں حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - زور، طاقت،قدرت۔
 جی امنڈ آنے پہ آنسو کس کے رو کے رک سکیں جس کلیجے کا یہ بل تھا وہ تو پانی ہو چکا      ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ١٤ )
٢ - دل کی مضبوطی، ہمت، ڈھارس۔
"جسے روپیے کا بل ہو اس کی ہر مشکل حل ہو"      ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان، ١٥٧ )
٣ - قابلیت، لیاقت۔(پلیٹس)
٤ - کسی اثر کو بدل یا رد کرنے کی صلاحیت استعداد یا مادہ۔
"افیون کے اثر کے بعد درد لوٹ آتا ہے کیونکہ وہ کسی اندرونی علت کے بل پر موجود نہیں"      ( ١٩٣١ء، علاج بالمثل، ٢٥ )
٥ - پہلو، رخ، بھل۔
"لڑکا قبضے میں اور بیگم جال میں پھنسی ہوئی ہیں میں جس بل نچاؤں ناچیں گے"      ( ١٩١٧ء، طوفان حیات، ١١٢ )
٦ - سہارا، بھروسا، حمایت بیشتر حرف ربط 'پر وغیرہ' محذوف۔
"میں ہمیشہ تیز ہوں بجلی کے بل پر کام کرنے والا سست نہیں ہوتا۔"      ( ١٩١٣ء، انتخاب توحید، ٨٩ )
٧ - غرور، گھمنڈ، خودی یا خودداری کی اکڑ، زعم۔
 گرد باد اٹھتے ہیں مدفن سے مرے سرگیا پر نہ گیا بل سر سے      ( ١٨٩٥ء، زکی، دیوان، ١٨٨ )