بگھارنا

( بَگھارنا )
{ بَگھار + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


اوگھرشنین  بَگھار  بَگھارنا

سنسکرت میں اصل لفظ 'اوگھرش' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بگھارنا' مستعمل ہے اس کے ساتھ اردو لاحقۂ مصدر 'نا' لگنے سے 'بگھارنا' بنا اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ ١٨٣٠ء میں "نظیر اکبر آبادی" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل متعدی
١ - گھی یا تیل میں لہسن یا زیرے وغیرہ میں داغ کر کے ترکاری یا دال وغیرہ میں ڈالنا۔
'گھی بڑی دیگچی میں ڈال کر چولھے پر رکھیے، جب وہ خوب کڑکڑا جائے تو اس کو ہینگ اور لہسن سے بگھار کر ثابت تیار شدہ بھنڈیوں کو تلیے۔"      ( ١٩٤٧ء، شاہی دسترخوان، ٢٦ )
٢ - کسی مسئلہ میں قابلیت کی بیجا نمائش کرنا۔
'مسٹر بیک بھی اسی طرح کی مخلوط زبان میں اپنی اردو بَگھار رہے تھے۔"      ( ١٩٣٨ء، خطبات عبدالحق، ١٥٦ )
٣ - شیخی مار کر کوئی دعوٰی کرنا، شیخی مارنا۔
'دوستی بگھارنے والے دوستوں نے باتیں کرتے کرتے سر بھی پھوڑ لیا ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، بحر تبسم، ٢٥٧ )
٤ - 'نمک ملی جامنوں یا پھلیندروں کو دو رکابیوں کے بیچ میں رکھ کر اس طرح جنبش دینا کہ پھل پھٹ جائیں اور نمک ان میں سرایت کر جائے۔"
'دھرتی ماتا کی زلزلہ انگیز مامتا نے جاپان کو جامنوں کی طرح بگھار ڈالا۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠، ٢:٢ )