پرستان

( پَرِسْتان )
{ پَرِس + تان }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی سے اسم 'پری' کے ساتھ 'ستان' بطور لاحقہ ظرف ملنے سے 'پرستان' بنا۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٨٤ء کو "سحر البیان" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم ظرف مکان ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : پَرِسْتانوں [پَرِس + تا + نوں (و مجہول)]
١ - پریوں کے رہنے کی جگہ، پریوں کا اکھاڑا، پریوں کا ملک۔
"کوہ قاف کے پرستان کے وجود پر تم کو یقین نہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٧٤:٣ )
٢ - [ مجازا ]  حسینوں کا مجمع۔
"نوجوان نے اس عالم پرستان کو دیکھا، اس نے اسے دیکھا، دونوں کے دل پھنس گئے۔"      ( ١٨٨٧ء، سخندان فارس، ١٠٧:٢ )