پرکار

( پَرْکار )
{ پَر + کار }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم آلہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : پَرْکاریں [پَر + کا + ریں (ی مجہول)]
جمع غیر ندائی   : پَرکاروں [پَر + کا + روں (و مجہول)]
١ - وہ دو شاخہ آہنی قلم جس سے دائرہ کھینچتے ہیں۔
 کہاں چین اس کو جب تک وہ نہ کرلے امتحان پورا اسی باعث سے اس کے ہاتھ میں پرکار رہتی ہے۔      ( ١٩٣٨ء، کلیات عریاں، ٢٩ )
  • a pair of compasses;  kind
  • sort
  • species;  way
  • mode
  • manner
  • method
  • fashion
  • similitude;  difference;  specialty