پرمٹ

( پَرْمَٹ )
{ پَر + مَٹ }
( انگریزی )

تفصیلات


انگریزی سے اردو میں داخل ہوا اور اپنے اصل معنی عربی رسم الخط میں مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٦٦ء کو "صلح نام جات و عہد نام جات و اسناد" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع استثنائی   : پَرْمَٹْس [پر + مَٹْس]
١ - چنگی، محصول۔
"کوئی محصول یا پرمٹ نہ لیا جائے گا۔"      ( ١٨٦٦ء، صلح نام جات و عہد نامہ جات و اسناد، ٢٧٤:١ )
٢ - مقام جہاں سرکاری محصول لیا جاتا ہے، چنگی کا محکمہ۔
"جیل خانہ حصار اور محکمہ پرمٹ کے احکام نے بادشاہ کو درخواستیں بھیجیں۔"      ( ١٩٠٣ء، چراغ دہلی، ٢٥٥ )
٣ - نمک اور شورے کا سرکاری محصول۔
 زبردستی لیا روئے ملیح یار کا بوسہ مزا ہے اس نمک پر بھی لگا محصول پرمٹ کا      ( ١٨٧٨ء، آغا اکبر آبادی، دیوان، ١٤ )
٤ - نمک کا محصول لینے والا محکمہ۔
 میں ہوں زیراثر حسن ملیح یعنی پرمٹ کا نمک خوار ہوں میں      ( ١٩٤٢ء، سنگ وخشت، ٢١٣ )
٥ - تحریری اجازت نامہ؛ کسی چیز کا شخص کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں لے جانے اور داخل ہونے دینے کی سرکاری سند۔
"آپ نے میرا پرمٹ ملاحظہ نہیں فرمایا ورنہ آپ یہ تحریر نہ فرماتے کہ میں نے انڈین یونین کی سکونت ترک کر دی ہے۔"      ( ١٩٤٨ء، مکتوبات عبدالحق، ٤٢٦ )
  • permit;  a custom-house;  customs