پرواز

( پَرْواز )
{ پَر + واز }
( فارسی )

تفصیلات


پریدن  پَرْواز

فارسی میں مصدر 'پریدن' سے حاصل مصدر 'پرواز' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
جمع   : پَرْوازیں [پَر + وا + زیں (ی مجہول)]
جمع غیر ندائی   : پَرْوازوں [پَر + وا + زوں (و مجہول)]
١ - اڑنے کا عمل، اڑان۔
 خوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیں موت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیں    ( ١٩٢٤ء، بانگِ درا، ٢٦٣ )
٢ - ہوائی جہاز کی اڑان یا سفر؛ مقررہ نظام الوقات کے تحت مخصوص منزل کو جانے والا طیارہ۔
"پی آئی اے آئندہ بارہ ماہ میں اپنی بین الاقوامی پروازوں کو مذید توسیع دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔"    ( ١٩٦٦ء، روزنامہ، جنگ، ٣١ اکتوبر، ٩ )
٣ - رسائی، پہنچ، اڑ کر جانے کا عمل
"خدا شناسی کے بارے میں انسان کی پرواز یہیں تک ہے۔"      ( ١٨٩٩ء، رویائے صادقہ، ١١١ )
٤ - حرکت، (آنکھ کے) پھڑکنے کا عمل، پھڑک (آنکھ کے) لئے مستعمل۔
 کب سبک یاروں سے باریک سرمو اٹھ سکے چشم کی پرواز کو ہوتا ہے لنگر برگِ کاہ      ( ١٨٣٥ء، دیوان بیختہ، (قلمی نسخہ)، ١ )
٥ - فخر کرنے یا ناز کرنے کا عمل۔ (نور اللغات، 85:2)
  • flying;  flight