تجدید بیعت

( تَجْدِیدِ بَیعَت )
{ تَج + دی + دے + بَے (ی لین) + عَت }
( عربی )

تفصیلات


عربی زبان کے لفظ، تجدید، کے ساتھ عربی سے ہی اسم'بیعت' لگا کر مرکب اضافی بنا۔ اردو میں ١٩٠١ کو "حیات جاوید" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت
١ - [ تصوف ]  سابقہ بیعت کو تازہ کرنے یا دوبارہ از سر نوبیعت کرنے کا عمل؛ پہلے جس مرشد طریقت کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان کے انتقال ہو جانے یا کسی اور وجہ سے اسی سلسلے کے دوسرے مرشد سے بیعت کرنا، دوبارہ مرید ہونا۔
"شاہ احمد سعید کو. بلایا اور ان کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی۔"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٣٣ )