بلونا

( بِلونا )
{ بِلو (واؤ مجہول) + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


ولوڈنین  بِلونا

سنسکرت کے اصل لفظ 'ولوڈ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بلو' مستعمل ہے اس کے ساتھ اردو لاحقہ مصدر 'نا' لگنے سے 'بلونا' بنا اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے ١٧٠٠ء میں "من لگن" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل متعدی
١ - متھنا، رئی پھرا کر دودھ یا دہی میں سے مکھن نکالنا، نیل کے پانی کو خوب حرکت دینا، گھنگولنا۔
"سب سے پہلے جو آلہ سوت بننے کے لئے کام میں لایا گیا، چرخہ نہ تھا بلکہ ایک لکڑی تھی جو آج کل رئی متھانی (دودھ بلونے اور مکھن نکالنے کی لکڑی) سے بہت مشابہ تھی۔"      ( ١٩١٦ء، گہوارہ تمدن، ٦٢ )
٢ - (کسی خیال پر) بار بار غور کرنا، اسکے تمام نشیب و فراز سمجھنے کی کوشش کرنا،
"یہ بھی کہتے ہیں کہ جس راے کو فکرنے ایک رات کامل بلویا نہ ہو وہ ادھورا بچہ ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، تشنیف الاسماع، ٢٩ )
٣ - [ مجازا ]  کسی فعل یا قول کی ناگوار حد تک تکرار کرنا۔
"ایسے لوگ سوائے پانچ سات گالیوں کے اور کچھ نہیں جانتے انہیں کو الٹ پلٹ کر بلوتے رہتے ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نا اہل پڑوسی، ٨٠ )
٤ - تلے اوپر کرنا، درہم برہم کرنا، برباد کرنا۔
 تاراج و تاخت فوج کی خط کہوں سو کیا پل میں اٹھا کے ملک دلوں کا بلو دیا      ( ١٧٨٠ء، سودا، کلیات، ٩١:١ )
  • to shake;  to churn