بم[2]

( بَم[2] )
{ بَم }
( فارسی )

تفصیلات


اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو زبان میں مستعمل ہے۔ ١٧١٨ء میں 'دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )
جمع غیر ندائی   : بَموں [بَموں (واؤ مجہول)]
١ - راگ یا باجے کی اونچی آواز، اونچا سر، زیر کا مقابل۔
 پر رعایت اصول کی رکھنا زیر میں بم میں تال میں سم میں      ( ١٩١٢ء، نذیر احمد، نظم بے نظیر، ١٠٠ )
٢ - کسی لفظ کا وہ رکن تہجی جس کی آواز پر بولنے میں زور دیا جائے۔
'ہر رکن کا بم سانس کی لہر کے زیادہ سے زیادہ زور سے مطابقت رکھتا ہے۔"      ( ١٩٦٤ء، زبان کا مطالعہ، ١٥٠ )
٣ - شور، غل۔
'میاں الو منحوس سایہ ڈالنے کی فکر میں منڈلا رہے ہیں اور بم مچا رکھی ہے۔"      ( ١٩٢١ء، گاڑہے خان کا دکھڑا، ١٩ )
  • bass (in Music);  deep
  • bass
  • tone or sound;  bass string (of a lute);  deep-toned drum