پڑھانا

( پَڑھانا )
{ پَڑھا + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


پٹنیین  پَڑھانا

سنسکرت میں فعل 'پٹنی ین' سے ماخوذ 'پڑھنا' اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ اردو قاعدے کے تحت علامت مصدر سے پہلے 'ا' بڑھا کر 'پڑھانا' فعل متعدی بنا۔ سب سے پہلے ١٨١٨ء کو 'کلامِ انشاء" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل متعدی
١ - علم سکھانا، سبق دینا، تعلیم دینا۔
 کتب تھے جو درسی پڑھے وہ تمام پڑھایا گیا صبح سے تابہ شام      ( ١٨٧٢ء، محامد خاتم النبیین، ١ )
٢ - کسی چیز کا مطالعہ کرانا۔
 چھوڑا پڑھا کے میں بھی ہوں کتنا فریبیا نام اور کا لکھا جو اسے خط رقم کیا      ( ١٩٢٥ء، شوقِ قدوائی، دیوان، ٥١ )
٣ - سمجھانا، بتانا، آگاہ کرنا۔
 پڑھایا اس کو بہتیرا کہ مت لا راز دل منہ پر پہ طفل اشک کو دیکھا تو ناقابل ہے کیا جانے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٣٣٧ )
٤ - تربیت دینا؛ کسی جانور کو بولنا سکھانا۔
'طوطے کو پڑھانا امیر زادیوں کا خاص مشغلہ ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٨٦ )
٥ - ورغلانا، سکھانا، اکسانا، بہکانا، برگشتہ کرنا۔
'اسی فتنی نے کچھ ایسے کان بھرے اور ایسا پڑھایا کہ ساتھ لے جا کر ٹلی۔"      ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ٩٧ )
  • make literate
  • teach
  • instruct
  • teach (bird) to talk
  • tutor (witness)
  • mislead
  • incite