تحویل دار

( تَحْوِیل دار )
{ تح (فتحہ ت مجہول) + وِیل + دار }

تفصیلات


عربی زبان سے اسم مشتق 'تحویل' کے ساتھ فارسی زبان سے مصدر 'داشتن' کے ساتھ 'دار' فعل امر بطور لاحقۂ فاعلی لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٧١٨ء کو'دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - خزانچی؛ روکڑیا۔
'سلطان ذیشان نے فوراً تحویلدار سلطانی کو طلب کیا۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٤٤ )
٢ - امین، محافظ، ذمہ دار۔
'غلام قادر - کے بعد راقم کو اپنی سرکار کے کتب خانے وغیرہ کا تحویلدار بنا دیا تھا۔"      ( ١٩٣٧ء، واقعات اظفری، ١٦٧ )
  • cash-keeper
  • cashier
  • treasurer (esp. in a provincial treasury)