تحویل داری

( تَحْوِیل داری )
{ تَح + وِیل + دا + ری }

تفصیلات


عربی زبان کے لفظ 'تحویل' کے ساتھ فارسی زبان سے مصدر 'داشتن' سے فعل امر 'دار' لگایا گیا ہے اور اس کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٨ء کو 'طلسم ہوشربا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
١ - تحویل دار کا اسم کیفیت۔
'تحویل داری کا تصور صرف ان صورتوں تک محدود نہیں ہے جن میں سامان تحویل دار کے حوالے کرنے سے پہلے تحویل کنندہ کے قبضے میں ہوتا ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، مبادی قانون فوجداری، ٣٢٥ )
  • the office of cash-keeper