بوسہ

( بوسَہ )
{ بو (واؤ مجہول) + سَہ }
( فارسی )

تفصیلات


اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : بوسے [بو (واؤ مجہول) + سے]
جمع   : بوسے [بو (واؤ مجہول) + سے]
جمع غیر ندائی   : بوسوں [بو (واؤ مجہول) + سوں (واؤ مجہول)]
١ - منہ لگانے اور چومنے کا عمل، چوما، مچھی، پیار۔
"حضرت جعفر . جب حبشہ سے واپس آئے تو آپ نے ان کو گلے لگا لیا اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٩٨:٢ )
٢ - [ تصوف ]  وہ جذبہ باطن جو عاشق کے لئے سرمایۂ حیات ہو۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 64)
  • kissing
  • kiss