بور

( بَور )
{ بَور (و لین) }
( سنسکرت )

تفصیلات


مول  بَور

سنسکرت میں اصل لفظ 'مول' ہے اور بطور اسم مستعمل ہے اردو میں اس سے ماخوذ 'بور' مستعمل ہے اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے ١٨٨٠ء میں "فسانۂ آزاد" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : بَوروں [بَو (و لین) + روں (و مجہول)]
١ - آم کا پھول، مور، مول۔
 دور بہار حسن تو ہو پھر جوش جنوں کا قحط نہیں کوکے گی باغوں میں کویل بور آموں میں آنے دو      ( ١٩٢٦ء، دیوان صفی، ١٠٣ )
  • the blossom of the mango tree