بوچھار

( بَوچھار )
{ بَو (واؤ لین) + چھار }
( سنسکرت )

تفصیلات


واتکشر  بَوچھار

سنسکرت کے اصل لفظ 'وات کشر' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بوچھار' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء میں میر کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : بَوچھاریں [بَو (واؤ لین) + چھا + ریں (یائے مجہول)]
جمع غیر ندائی   : بَوچھاروں [بَو (واؤ لین) + چھا + روں (واؤ مجہول)]
١ - مینھ کی وہ بوندیں جو ہوا کے ساتھ ترچھی گرتی اور بچاؤ کی جگہ میں پہنچتی ہیں۔
"دو بجے بارش کا طوفان آیا - ہر کھڑکی سے بوچھاڑ آنے لگی۔"      ( ١٩٢٤ء، روزنامچہ حسن نظامی، ٩٣ )
٢ - کثرت، بھرمار۔
 اللہ ری تلخ تجربوں کی بوچھار شمشیر شرافت کی مڑی جاتی ہے دھار      ( ١٩٤٦ء، سنبل و سلاسل، ٣٢٨ )
٣ - طعن و تشنیع لعن و طعن طنز و استہزا وغیرہ کا مسلسل استعمال (کسی کے لیے)، چھینٹے۔
'ان تقریروں اور تحریروں میں زیادہ تر بوچھار اسلام پر ہوتی تھی۔"      ( ١٩٣٨ء، حالات سرسید، ٩٦ )
٤ - بارش، برساؤ، بکھراؤ، بکھیر۔
 کہہ تو دو کس پہ یہ بوچھار ہوی تیروں کی ہیں یہ کیوں خون میں ڈوبے ہوئے سوفار تمام      ( ١٩٥٥ء، گفتار بیخود، ١٣٧ )
  • wind and rain
  • driving rain
  • heavy shower of rain;  drift
  • spray