پکوڑا

( پَکَوڑا )
{ پَکَو (و لین) + ڑا }
( سنسکرت )

تفصیلات


پکو+وٹ+کہ  پَکَوڑا

سنسکرت میں اصل لفظ 'پکو + وٹ + کہ' سے ماخوذ 'پکوڑا' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٨٠ء کو 'کلیاتِ سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : پَکوڑے [پَکَو (و لین) + ڑے]
جمع   : پَکوڑے [پَکَو (و لین) + ڑے]
جمع غیر ندائی   : پَکَوڑوں [پَکَو (و لین) + ڑوں (و مجہول)]
١ - تلی ہوئی (بیشتر بیسن کی) پُھولی ہوئی بڑی پھلکی، بڑی پکوڑی، (مجازاً) پُھولا ہوا۔
'اگر ناک پکوڑا اور دانت کُھرپے ہیں تو کوئی پرواہ نہیں۔"      ( ١٩٤٧ء، قیامت ہم رکاب آئے، ٤٤ )