بھانت

( بھانْت )
{ بھانْت (ن مغنونہ) }
( سنسکرت )

تفصیلات


بِھنّت  بھانْت

سنسکرت میں اصل لفظ ' بھنت' ہے اور بطور اسم مستعمل ہے اردو میں اس سے ماخوذ 'بھانت' مستعمل ہے ١٦٥٧ء میں "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
١ - طرز، روش، طریقہ۔
"راجا نے من میں یہی ٹھانا ہے کہ ہم سب کو اسی بھانت ان بنا ترسا کر مارے۔"      ( ١٨٢٥ء، سیر عشرت، ٧٢ )
٢ - قسم، نوع، طرح۔
"روٹی یہاں کئی بھانت کی ہوتی ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، دنیا گول ہے، ٢٠٠ )
٣ - مثل، مانند، طرح۔
 یہ باو کیا پھری کہ تری لٹ پلٹ گئی ناگن کی بھانت ڈس کے مرا دل الٹ گئی      ( ١٧١٨ء، دیوان آبرو (ق)، ٦٦ )
٤ - رنگ؛ نسلی، خاندان۔
"اس نمو کا اور شہزادے کا کوئی مقابلہ ہے، صورت میں، شکل میں، ذات میں، بھانت میں، عزت میں . یہ کس چیز میں ان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، ہمارا گاؤں، ٢٥٢ )