بھانڈا

( بھانْڈا )
{ بھاں + ڈا }
( سنسکرت )

تفصیلات


بھانڈ  بھانْڈا

سنسکرت سے ماخوذ اصل لفظ 'بھانڈ' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقۂ مذکر لگنے سے 'بھانڈا' بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : بھانْڈے [بھاں + ڈے]
جمع   : بھانْڈے [بھاں + ڈے]
جمع غیر ندائی   : بھانْڈوں [بھاں + ڈوں (واؤ مجہول)]
١ - مٹی کا برتن، برتن۔
"تخت چوکی چولھا چکی برتن بھانڈا سبھی چیزیں اس کو درکار ہوتی ہیں۔"      ( ١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ٢١٨ )
٢ - ملکیت، سازو سامان۔ (نوراللغات، 708:1)
٣ - [ مجازا ]  راز، بھید۔ (فرہنگ آصفیہ، 428:1؛ نوراللغات، 708:1)