بھٹیارا

( بَھٹْیارا )
{ بَھٹ + یا + را }
( سنسکرت )

تفصیلات


بھرشٹکارک  بَھٹْیارا

سنسکرت میں اصل لفظ 'بھرشٹ کارک' ہے جو کہ بطور اسم مستعمل ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں 'بھٹارا' مستعمل ہے اردو میں اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٧٩٤ء میں "جنگ نامہ دو جوڑا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : بَھٹیارے [بَھٹ + یا + رے]
جمع   : بَھٹْیارے [بَھٹ + یا + رے]
جمع غیر ندائی   : بَھٹْیاروں [بَھٹ + یا + روں (واؤ مجہول)]
١ - [ اصلا ]  بھٹی والا، نانبائی جو روٹیاں پکا کر فروخت کرتا ہے۔
"میری عمدہ غذا تو خود کھا گئے اور مجھ کو بھٹیارے کا تاردار شوربا کھلایا۔"      ( ١٩٢١ء، گاڑھے خاں کا دکھڑا، ١٣ )
٢ - سرائے کا مالک جو سرا کی کوٹھریاں کرایے پر چلاتا ہے، اور مسافروں کے قیام و طعام کا انتظام کرتا ہے۔
"سرا بڑی سے بڑی بھی ہو اس کا مالک بے چارہ محض بھٹیارا۔"      ( ١٩١٦ء، انشائے ماجد، ١٣٠:٢ )