بھنک

( بَھنَک )
{ بَھنَک }
( سنسکرت )

تفصیلات


بھٹک  بَھنَک

سنسکرت میں اصل لفظ 'بھٹک' ہے جو کہ بطور اسم مستعمل ہے اردو میں سنسکرت سے ماخوذ 'بَھنَک' مستعمل ہے اور اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٨١٨ء میں "کلام انشا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مجرد ( مؤنث - واحد )
١ - دھیمی آواز، دور کی آواز، بھنبھناہٹ، گونج، ہلکی آواز۔
 دل سے بھی باتیں کیا کرتا ہوں ڈر ڈر کر مدام لگ گئی اس کو بھنک تو سوء ظن ہو جائے گا    ( ١٩٠٨ء، مخزن، فروری، ٦٩ )
٢ - ساز کے تاروں کی ہلکی آواز یا جھنجھناہٹ۔
"پکھاوج کی تھاپ سارنگی کا ملاپ بھنورے کی بھنک طبلے کی گمک"    ( ١٨٦٣ء، انشائے بہار بے خزاں، ٥٣ )
٣ - ساز کی ہلکی یا تیز آواز۔
 صور محشر کو بھی تو اس کے مست بانسری کی بھنک سمجھتے ہیں    ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٥٨ )
٤ - اڑتی ہوئی (غیر مصدقہ) خبر، سن گن۔
"جس دن اس کی بھنک مل جاتی تھی رینل صاحب کھانے کے وقت ڈائننگ ہال آئیں گے اس دن ڈائننگ ہال، سروس روم . اٹینشن ہو جاتے"      ( ١٩٥٨ء، آشفتہ بیانی، ١٠٧ )
٥ - بساوٹ، ہلکا یا ہلکی، کم، کمزور، حفیف (امیزش)۔
 رنگ ہو وے سفید اور چمک کالی رنگت کی نہ اس میں بھنک      ( ١٨٤١ء، زینت الخیل، ١٧٢ )