پنڈت

( پَنْڈَت )
{ پَن + ڈَت }
( سنسکرت )

تفصیلات


پنڈت  پَنْڈَت

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رَس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جنسِ مخالف   : پَنْڈتائِن [پَنْڈ (ن غنہ) + تا + اِن (کسرہ ا مجہول)]
جمع غیر ندائی   : پَنْڈَتوں [پَن + ڈَتوں (و مجہول)]
١ - عالم، فاضل؛ ہندو دھرم کے قوانین سے واقف شخص، معلم، برہمن قوم کا فرد۔
 پنڈت نے اگر بنا دیا بت کو خُدا ملاّ نے خدا کو بت بنا کر چھوڑا      ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٢٧٩ )
٢ - جوتشی، نجومی، رمّال۔
"پنڈتوں نے پوتھی کھولی، کچھ انگلیوں پر شمار کیا کہا خیریت ہے۔"      ( ١٨٩١ء، بوستانِ خیال، ٢٢٧:٨ )
٣ - ایک تعظیمی کلمہ جو عموماً اونچی ذات کے یا پڑھے لِکھے ہندوؤں کے لئے مستعمل ہے۔
"پنڈت سندر ترائن مُشران صاحب کے ان خطبات کا مجموعہ جو انہوں نے . ادبی مجلسوں میں پڑھے۔"      ( ١٩٤٢ء، خطباتِ مُشران، ریویو (١) )
٤ - [ موسیقی ]  کمال اور دسترس کے مطابق گانے والے کا سب سے چھوٹا درجہ۔
"نائک کا درجہ فنِ موسیقی کے تما درجوں یعنی پنڈت، گنی، گندھوپ اور گاین سے بڑھ کر ہے۔"      ( ١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ٢٢ )
  • one versed in Hindu religious love;  Brahman teacher;  pandit