پوجنا

( پُوجْنا )
{ پُوج + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


پوجیہ  پُوجْنا

سنسکرت سے لفظ'پوجیہ' سے ماخوذ 'پوج' کے ساتھ علامت مصدر 'نا' لگانے سے 'پوجنا' حاصل ہوا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦١١ء کو 'کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل متعدی
١ - پرستش کرنا، پوجا کرنا، عبادت کرنا۔
 جوارح سے اعمال سے روح سے غرض یہ کہ بہر نوع پوجیں مجھے      ( ١٩٢٢ء، بے نظیر، کلامِ بے نظیر، ٢٩٣ )
٢ - نذر کرنا، بھینٹ دینا، پیش کش کرنا۔
 جان یا دل نذر کرنا چاہیے کچھ نہ کچھ اس بت کو پوجا چاہیے    ( ١٨٧٨ء، سخن بے مثال، ١٣٠ )
٣ - خرچ کرنا، ناحق روپیہ صرف کرنا، چار و ناچار خرچ کرنا؛ کمی پوری کرنا، نقصان پورا کرنا۔
'بندہ ڈھائی ہزار پوج چکا ہے، آپ فضول بتاتے ہیں۔"    ( ١٨٩٠ء، سیرِ کہسار، ٣١:٢ )
٤ - [ مجازا ]  بہت تعظیم و تکریم کرنا، سر پر چڑھانا۔
'جناب کے دروازے کو بندہ اب پوجتا ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، مطالعۂ حافظ، ١٠٢ )
  • to offer adoration;  to worship;  to reverence;  to adore
  • worship;  to honour
  • respect
  • venerate
  • to do homage (to);  to reverence;  to idolatrize