بچنا

( بَچْنا )
{ بَچ + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


ورجنیم  بچ  بَچْنا

سنسکرت کے اصل لفظ 'ور جنیم' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بچ' مستعمل ہے اس کے ساتھ اردو لاحقۂ مصدر 'نا' لگنے سے 'بچنا' بنا اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے ١٧٣٢ء میں "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل لازم
١ - محفوظ رہنا، کسی تکلیف مصیبت یا حادثے وغیرہ سے امن میں رہنا۔
 بچی ایک دن بال بال آبرو تو اب لے نہ ڈوبے یہ چال آبرو      ( ١٩١٠ء، قاسم و زہرہ، ٧٧ )
٢ - آرام ہونا، شفا یاب ہونا۔
"جن لوگوں نے بیمار ہونے کے بعد یہ دواپی ان میں سے بعض بچے گئے اور بعض چل بسے"    ( ١٩٤٣ء، تاریخ الحکما، ١٠٣ )
٣ - صحیح سلامت رہنا، باقی رہ جانا۔
 دل نے دیکھا مجھے اور میں نے فلک کو دیکھا بچ کے ساحل پہ اگر کوئی سفینہ آیا    ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانۂ الہام، ٢٩ )
٤ - زندہ رہ جانا۔
 پوچھتے کیا ہو جوش کی حالت اب کی بچتے نظر نہیں آتے      ( ١٩٤٤ء، عرش و فرش، ٢٥٩ )
٥ - گرفت سے چھوٹنا۔
 یا رکھیے کبھی نہ بچیے گا مل گئے آپ وقت گرشب کے      ( ١٨٧٩ء، عیشن دہلوی، دیوان، ٢٠٩ )
٦ - اجتناب کرنا، پرہیز کرنا۔
میں ایسے الزم سے بچتا ہوں۔      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٥٧٥:١ )
٧ - کنارے ہونا، الگ رہنا۔
 یوں نہ ٹھکراتے تھے تم گور غریباں کو کبھی بچ کے چلتے تھے مزار شہدا سے پہلے      ( ١٨٤٣ء، دیوان رند، ١٦٠:٢ )
٨ - (خرچ کر کے) بچت میں پڑنا۔
"ایسی ہی کوئی بھاگوان فصل یا مبارک دن ہوتا ہو گا کہ بٹ بٹا کر سو پچاس روپے بچتے ہونگے"    ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٢٧ )
٩ - فاضل رہنا، بڑھنا۔
"قرضہ ادا کرکے پانچ روپیے بچے"    ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٥٧٤:١ )
١٠ - تھوڑی سی کسر رہنا، ضرر پہنچتے پہنتے رہ جانا۔
 ہنستے ہنستے اس نے دونوں ہاتھ منھ پر رکھ لیے آسمان سے آج بجلی گرتے گرتے بچ گئی      ( ١٩١٩ء، کیفی حیدر آبادی،٤٨ )
١١ - ڈرنا، خوف کرنا۔
"نہ لو میری آیتوں پر مول تھوڑا اور مجھی سے بچتے رہو"      ( ١٧٩١ء، ترجمۂ قرآن، شاہ عبدالقادر، ٨ )
١٢ - خالی جانا، چھوٹنا۔
 وضع کی گوتھی سب کو پابندی پر نہ بچتی تھی کوئی نو چندی      ( ١٨٧١ء، شوق (نوراللغات، ٥،٧:١) )
١٣ - نفع ہونا، فائدہ ہونا۔ پلیٹس؛ نوراللغات، 575:1
١٤ - ٹلنا، ٹہل جانا۔
" میں خدمت سے بچ کر الگ ہو گیا تھا"      ( ١٨٨٧ء، دربار اکبری، ٥٥١ )