ٹمٹمانا

( ٹِمْٹِمانا )
{ ٹِم + ٹِما + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


ستم  ٹم  ٹِمْٹِمانا

سنسکرت کے اصل لفظ 'ستم' سے ماخوذ اردو لفظ 'ٹم' کی تکرار سے اردو زبان میں 'ٹمٹم' بنا اس کے ساتھ اردو قواعد کے مطابق 'ا' لگا کر اردو لاحقۂ مصدر 'نا' لگانے سے 'ٹمٹمانا' بنا اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے ١٨٧٩ء میں "مسدس حالی" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل لازم
١ - جھلملانا، کم کم روشنی دینا، ستاروں کی سی روشنی دینا، چراغ بجھنے کے قریب ہونا۔
"دروازے پر ایک لالٹین ٹمٹما رہی تھی"      ( ١٩٣٥ء دودھ کی قیمت، ١٤٨ )
٢ - (آنکھوں کے ساتھ) ذراسی آنکھیں کولنا اور بند کر لینا۔
"دلہن نے ذراسی آنکھیں ٹمٹما کے پھر بند کر لیں"      ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٥٧ )
  • جِھلْمِلانا
  • to give a faint light
  • to glimmer
  • to twinkle
  • to flicker
  • to be at the last gasp