پہننا

( پَہَنْنا )
{ پَہَن (فتحہ پ مجہول) + نا }
( ہندی )

تفصیلات


پَہَن  پَہَنْنا

ہندی میں فعل 'پہن' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت علامت مصدر 'نا' لگنے سے 'پہننا' بنا۔ اردو میں بطور فعل مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوانِ آبرو (قلمی نسخہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل متعدی
١ - لباس زیبِ تن کرنا۔
"سرل نے ڈریسنگ گاؤن پہن کر اپنے کمرے کی کھڑکی میں سے جھانکا۔"      ( ١٩٥٩ء، آگ کا دریا، ٧١٤ )
٢ - زیور، پھول وغیرہ بدن پر سجانا۔
 چن چکی دوپٹے اب، غم کی پالے میرے کون پھول گوندھ گوندھ کے پہنے بالے میرے کون      ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، عالمِ خیال، ٤ )
٣ - کسی چیز کا جسم کے کسی حصے پر استعمال کرنا۔
"سردی میں اس منشی کو دستانے پہننے پڑتے تھے تاکہ ہاتھ گرم رہیں۔"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ سلطنت روما، ٧٠٩ )
  • to put on
  • to wear (clothes
  • shoes)
  • to dress