چٹائی[1]

( چَٹائی[1] )
{ چَٹا + ای }
( سنسکرت )

تفصیلات


چٹ+ک+اکا  چَٹائی

سنسکرت زبان کے اصل لفظ'چٹ + ک + اکا' سے ماخوذ چٹائی اردو زبان میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦٦ء میں "تہذیب الایمان" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : چَٹائِیاں [چَٹا + اِیاں]
جمع غیر ندائی   : چَٹائِیوں [چَٹا + اِیوں (و مجہول)]
١ - گھاس یا کھجور کے پتوں سے بُنا ہوا فرش، بوریا، حصیر۔
 تھا جلوس اس شاہ کو مرغوب فرش خاک پر تھیں چٹائی کی لکیریں نقش جسم پاک پر      ( ١٩١٤ء، فردوس تخیل، ٨٢ )
٢ - جانماز، مصلّٰی۔
 میں نے اکبر سے کہا آئیے حجرے میں مرے اس چٹائی پہ نمازیں پڑھیں حسب دستور      ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٢٩:١ )
  • صَفْ
  • بورِیا