آکٹوپس

( آکْٹوپَس )
{ آک + ٹو (واؤ مجہول) + پَس }
( لاطینی )

تفصیلات


یہ لفظ اصلاً لاطینی زبان کا ہے۔ جہاں تک اردو زبان میں داخل ہونے کا تعلق ہے تو چونکہ لاطینی زبان کا اردو پر براہ راست اثر بہت کم ہے لہٰذا قرین قیاس ہے کہ یہ لفظ لاطینی سے انگریزی اور انگریزی سے اردو میں داخل ہوا۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع استثنائی   : آکْٹوپسِز [آک + (واؤ مجہول) + پَسِز]
جمع غیر ندائی   : آکْٹو پَسوں [آک + ٹو (واؤ مجہول) + پَسوں (واؤ مجہول)]
١ - "آکٹوپس اسی قسم(کٹل فش) کا ایک دوسرا جانور ہے ..... ان کے جسم کے اندر ایک تھیلی ہوتی ہے جس میں ایک قسم کی سیاہ روشنائی بھری رہتی ہے، جب یہ کسی دشمن کو اپنی طرف آتے دیکھتے ہیں تو اپنی اس روشنائی کو کافی تعداد میں باہر نکال دیتے ہیں، روشنائی باہر آکر پانی کو گندلا کر دیتی ہے، ایسے گندے پانی میں ان کا دشمن ان کو دیکھ نہیں سکتا، وہ اس طرح سے اس کی نگاہ سے بچ کر بھاگ جاتے ہیں، اس روشنائی کو سیپیا روشنائی کہتے ہیں، مصور اس کی بہت قدر کرتے ہیں۔" (حیوانی دنیا کے عجائبات، 44)
  • Octopus