ابلیسی

( اِبْلِیسی )
{ اِب + لی + سی }
( عربی )

تفصیلات


بلس  اِبْلِیس  اِبْلِیسی

عربی زبان کے لفظ 'ابلیس' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقۂ نسبت یا کیفیت استعمال ہوا۔ ١٩١٢ء کو، شمیم کی بیاض کے قلمی نسخے میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
١ - شیطنت، ابلیسیت۔     
: یہ مکر ورثہ دار خلافت کے سامنے ابلیسی چل سکے گی نہ صفوت کے سامنے     رجوع کریں:   ( ١٩١٢ء شمیم، بیاض (ق)، ٤ )
صفت نسبتی
١ - ابلیس سے منسوب     
 اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام پختہ تر اس سے ہوئے خوے غلامی میں عوام     رجوع کریں:   ( ١٩٣٨ء، ارمغان حجاز، ٣١٥ )
  • The devil