احظاظ

( اِحْظاظ )
{ اِح + ظاظ }
( عربی )

تفصیلات


حظظ  حَظ  اِحْظاظ

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال از مضاعف سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨٩٥ء کو "فرنیالوجی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم حاصل مصدر ( مذکر - واحد )
١ - متلذد ہونے کی کیفیت، لذت یابی، التذاذ، لطف اندوزی۔
"تفریحوں پر جان دینے والا شخص احظاظ نفس کی ایک خاص صورت پر وارفتہ نہیں ہو سکتا۔"      ( ١٩٢٢ء، گوشہ عافیت، ١٥٨:١ )
٢ - مزہ، حظ، لذت۔
"ان صورتوں میں محض کسی رجحان یا قیاس کی زیادہ حدت ہی مخصوص ہوتی ہے کہ جو الحان یا چگونگی کے ذریعے احظاظ حاصل کرنا چاہتی ہے۔"      ( ١٨٩٥ء، فرنیالوجی، ١٤٥ )