آمیختہ

( آمیخْتَہ )
{ آ + میخ (ی مجہول) + تَہ }
( فارسی )

تفصیلات


آمیختن  آمیخْتَہ

فارسی زبان میں مصدر 'آمیختن' سے علامت مصدر 'ن' گرا کر فارسی قاعدہ کے مطابق 'ہ' بطور لاحقۂ حالیہ تمام لگانے سے 'آمیختہ' فارسی میں صیغہ حالیہ تمام بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت اور گاہے بطور اسم بھی مستعمل ہے سب سے پہلے ١٦٨١ء "جنگ نامہ سیوک" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : آمیخْتے [آ + میخ (یائے مجہول) + تے]
جمع   : آمیخْتے [آ + میخ (یائے مجہول) + تے]
جمع غیر ندائی   : آمیخْتوں [آ + میخ (یائے مجہول) + توں (واؤ مجہول)]
١ - مرکب۔
"جو پیشے دین اور سیاست کے ریختہ اور بدن کے لہو اور قلم کی سیاہی کے آمیختہ سے بنے ہوں . مضبوط . ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٧٣ء، آواز دوست، ٥٣ )
صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : آمیخْتے [آ + میخ (ی مجہول) + تے]
جمع   : آمیخْتے [آ + میخ (ی مجہول) + تے]
جمع غیر ندائی   : آمیخْتوں [آ + میخ (ی مجہول) + توں (و مجہول)]
١ - (محسوسات خواہ معقولات) ملا جلا، گڈمڈ، مخلوط۔
"یہی وہ آمیختہ زبان تھی جس کو ابتداءً شعرا ریختہ اور عام ادبا اردو کہا کرتے تھے۔"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ نثر اردو، ٣:١ )
  • مَخْلُوطْ
  • محْلُولْ
  • مِلایا ہُوا