آنڈو

( آنْڈُو )
{ آں + ڈُو }
( سنسکرت )

تفصیلات


آنْڈ  آنْڈُو

سنسکرت زبان کے اصل لفظ 'آنڈ' کے ساتھ 'و' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے 'آنڈو' بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم صفت اور گاہے بطور اسم بھی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٩٥ء میں "فرہنگ آصفیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت نسبتی ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : آنْڈُوؤں [آں + ڈُو + اوں (و مجہول)]
١ - فوطوں والا، خصی کی ضد۔
جس کا آنڈو بکے وہ بدھیا کیوں کرے۔ (کہاوت)      ( فرہنگ آصفیہ، ٢٤٧:١ )
٢ - وہ شخص یا جانور جس کے بڑے بڑے خصیے ہوں، پر شہوت، شہوتی، سانڈ، بجار۔ (فرہنگ آصفیہ، 247:1)
  • سَانْڈ
  • شَہْوَتی
  • Possessed of testicles
  • entire;  having large testicles