آشیاں

( آشْیاں )
{ آش + یاں }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ ہے اور اپنی اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو میں مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٩٠٩ء میں "ضمیمہ قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : آشْیانے [آش + یا + نے]
جمع   : آشْیانے [آش + یا + نے]
جمع غیر ندائی   : آشْیانوں [آش + یا + نوں (واؤ مجہول)]
١ - گھونسلا، پرند کا گھر جسے وہ تنکوں وغیرہ سے بناتا ہے۔
"دیکھا تو ایک پرانا دھرانا ویرانہ ہے چغد و بوم کا آشیانہ ہے۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٥٩ )
٢ - رہنے کا گھر، مسکن، اڈہ، قیام کی جگہ۔
"محکمہ جنگ بدمعاشوں کے لیے ایک عمدہ آشیانہ تھا۔"      ( ١٩١٣ء، فغان ایران، ١٠٦ )