ابرو

( اَبْرُو )
{ اَب + رُو }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ پہلوی میں "بُرُوْک' اوستائی زبان میں 'بُرُوَت' اور سنسکرت میں 'بُھرُو' مستعمل ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ اردو میں ان زبانوں میں سے داخل ہوا ہو یا پھر اوستائی یا پہلوی سے فارسی زبان کے راستے سے اردو میں آیا ہو۔ البتہ قرین قیاس فارسی ہی ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )
جمع   : اَبْرُوئیں [اَب + رُو + ئیں (ی مجہول)]
جمع غیر ندائی   : اَبْرُوؤں [اَب + رُو + ؤں (و مجہول)]
١ - آنکھ کے اوپر کی محراب نما ہڈی پر دو طرفہ بالوں کی لکیر، بھوں، بھویں۔
 کچھ اشاروں ہی سے کہہ دے تری چتون کے نثار کس پہ تولے ہوئے تلوار ہے ابرو تیرا      ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانۂ الہام، ٥ )
٢ - [ تصوف ] وہ تجلی یا الہام غیبی یا کلام کی صورت میں سالک کے دل پر وارد ہوتی ہے۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 3)
٣ - [ تصوف ] صفات الٰہی (مصباح التعرف لارباب التصوف، 3)
٤ - [ تصوف ] قاب قوسین۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 3)
١ - اَبرو چننا
بھووں میں افشاں لگانا۔ چنوا کے ابرو مجھ سے وہ کیا ہنس کے فرمانے لگے اس تیغ کے دم کے سدا دکھلائیں گے جوہر بھی ہم      ( ١٨٤٠ء، شاہ نصیر، چمنستان سخن، ١١٣ )
٢ - اَبرو کھنچنا
ابرو پر بل پڑنا، غصہ آنا۔ کھنچ گئے ابرو ہوئی ترچھی نگاہ میرے دل پر وار جو چاہے کرے      ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٠٧ )
٣ - اَبرو مروڑنا
ماتھے پر ناگواری، ناپسندیدگی یا غصے سے شکنیں پڑنا، غصہ آنا۔ تیغ ستم سے اس کی کبھو منہ نہ موڑیے سو زخم اگر لگیں تو نہ ابرو مروڑیے      ( ١٧٦٤ء، دیوان زادہ حاتم (ق)، ٦، ٣ )
٤ - اَبرو ملانا
باہم ساز یا رمز کرنا، اشارے کرنا۔ سب سے ملاءو ابرو ہم سے نفاق رکھو اس اپنی دوستی کو بالائے طاق رکھو      ( ١٨٤٠ء، نصیر، چمنستان سخن، ١٥٩ )
٥ - اَبرو ہلانا
آنکھ سے اشارہ کرنا۔ سر آنکھوں سے کریں سجدہ جدھر ابرو ہلائے وہ جدا کچھ کفر اور اسلام سے مذہب ہمارا ہے      ( ١٨٥٣ء، دفتر فصاحت، وزیر، ١٩٨ )
٦ - اَبرو ہلنا
ابرو ہلانا سے فعل لازم۔ واں ہلے ابرو یہاں پھیری گلے پر ہم نے تیغ بات کا ایما بھی پانا کوئی ہم سے سیکھ جائے      ( ١٨٥٤ء، ذوق، دیوان، ٢٠٤ )
٧ - ابرو چڑھانا
غصہ آنا، ناگوار گزرنا۔ ابرو چڑھا کے آگے بڑھے شاہِ لافتٰی بھونچال کا سماں نظر آتا تھا جا بجا      ( ١٨٩٣ء، ریاض، شمیم، ٨٨:١ )
٨ - ابرو پر (---پہ) بل (---شکن) آنا / ہونا
ماتھے پر ناگواری، ناپسندیدگی یا غصے سے شکنیں پڑنا، غصہ آنا۔ منہ پہ کھاتے رہے تلوار برابر دیندار بل نہ ابرو پہ مگر بال برابر آیا      ( ١٩١٥ء، جان سخن، ٤٢ )
٩ - اَبرو پر (--پہ) بل (-- شکن) پڑنا
غصہ آنا۔ اس قدر نفرت ہے دشمن کو ہمارے نام سے جب کوئی بولا سخن بل اس کے ابرو پر پڑے      ( ١٨٨٦ء، دیوان سخن، ١٩٤ )
١٠ - ابرو پر (-- پہ) بل (-- شکن) ڈالنا
ابرو پر بل پڑنا سے فعل متعدی ہے۔"اگر کوئی بدمزاج شخص تعریف کرتا تو ابرو پر بل ڈال کر خاموش ہو جاتے۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٤، ٢٦٥ )
١١ - ابرو پر(-- پہ) میل آنا
چہرے سے ناگواری کا اظہار ہونا، ناگوار گزرنا۔"ہزاروں گالیاں سنتے رہے مگر ان کے ابرو پر میل نہیں آیا۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٢٢٨:١ )
١٢ - اَبرو پھڑکانا
بھوں کو معنی خیز طور پر جنبش دینا، اشارے کرنا آنکھ کچھ تجھ سے لڑاتا ہے پری رو شیشہ موج صہبا سے جو پھڑکائے ہے ابرو شیشہ      ( ١٨٤٠ء، نصیر، چمستان سخن، ١٧٥ )
  • the eye-brow.