آئندہ

( آئِنْدَہ )
{ آ + اِن + دَہ }
( فارسی )

تفصیلات


آمدن  آئِنْدَہ

فارسی زبان میں مصدر 'آمدن' سے اسم فاعل ہے اصل میں 'آیندہ' ہے جبکہ اردو میں عام طور پر 'آیندہ' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم صفت اور کبھی بطور اسم اور کبھی بطور متعلق فعل بھی مستعمل ہے سب سے پہلے ١٨٠٢ء میں "خرد افروز" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم ظرف زمان ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : آئِنْدَگان [آ + اِن + دَگان]
١ - آنے والا زمانہ، مستقبل
"آئندہ کی فکر آج فضول ہے۔"      ( ١٩٦١ء، مولوی عبدالحق، لغت کبیر، ٢٦٧:٢ )
صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
جمع استثنائی   : آئِنْدَگان [آ + اِن + دَگان]
١ - آنے والا۔
"ممکن ہے . کہ آئندہ جنم میں بھی آپ کا میرا تعلق اس سے زیادہ ہو جائے۔"      ( ١٩٠٨ء، اتالیق خطوط نویسی، ٢٠ )
متعلق فعل
١ - مستقبل میں، آنے والے زمانے میں، آگے، اس کے بعد۔
"پھر یہ سوچا کہ آیندہ جو کچھ کہ ہو سو ہو۔"      ( ١٨٤٢ء، الف لیلہ، عبدالکریم، ١٧٤:٢ )