باختہ

( باخْتَہ )
{ باخ + تَہ }
( فارسی )

تفصیلات


باختن  باخْتَہ

فارسی زبان میں مصدر 'باختن' سے علامت مصدر 'ن' گرا کر 'ہ' بطور لاحقہ حالیہ تمام لگانے سے 'باختہ' بنا جوکہ فارسی صیغہہ حالیہ تمام ہے اور اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٧٥٤ء میں ریاض غوثیہ میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
جمع   : باخْتَگان [باخ + تَگان]
جمع غیر ندائی   : باخْتوں [باخ + توں (واؤ مجہول)]
١ - معطل، اُڑا ہوا، گم (حواس یا رنگ وغیرہ کے لیے مستعمل)۔
"گال پر ہاتھ دھرے افسوس میں بیٹھی ہے، رنگ رو باختہ، جنون کی ساختہ و پرداختہ۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٤٦١ )
  • played;  staked;  lost
  • beaten (at play)