بتکرار

( بَتَکْرار )
{ بَتَک + رار }

تفصیلات


عربی زبان سے ماخوذ حاصل مصدر 'تکرار' کے ساتھ فارسی حرف جار 'ب' بطور سابقہ لگانے سے 'بتکرار' مرکب بنا۔ اردو میں بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٨٧٤ء میں انیس کے مراثی میں مستعمل ملتا ہے۔

متعلق فعل
١ - بار بار، مکرر، پے در پے۔
 رویا یہ سخن سن کے حبیب جگر افگار گر کر قدم شہ پہ یہ کی غرض بتکرار      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٧٧:٢ )