ابرار

( اَبْرار )
{ اَب + رار }
( عربی )

تفصیلات


برر  اَبْرار

عربی زبان میں اسم مشتق ہے، ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل 'بَرٌّ' کی جمع ہے۔ اردو میں ١٧٣٩ء کو "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - جمع )
واحد   : بَرٌّ [بَر+رُن]
١ - پرہیزگار یا نیکوکار لوگ، پارسا، اصفیا۔
 ہر مذہب و ملت میں ہیں اچھے بھی برے بھی وہ کونسا فرقہ ہے کہ سب جس میں ہوں ابرار      ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٢٩١:١ )
٢ - [ تصوف ]  وہ گروہ اولیا جو صرف تقویٰ اور عبادات ظاہری اختیار کرتا ہے جن کے متعلق کلام پاک میں آیا ہے "اِنَّ لا برار نفی نعیم" (بے شک ابرار جنت میں جائیں گے)۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف 23)
  • Just holy
  • pious men;  saints;  dutiful (to parents)