لب و لہجہ

( لَب و لَہْجَہ )
{ لَبو (و مجہول) + لَہ (فتحہ مجہول ل) + جَہ }

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'لب' کے آخر پر 'و' بطور حرف عطف لگا کر عربی اسم 'لہجہ' لگا کر مرکب عطفی 'لب و لہجہ' میں اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٥ء کو "دیوان قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - انداز گفتگو، لفظ ادا کرنے اور آواز نکلنے کا انداز (بولنے یا لکھنے میں) لفظوں کا اسعتمال اور ان کی ادائیگی۔
"اس کا لب و لہجہ بہت ہمددردانہ ہو گیا۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٧٠ )