بزیر

( بَزیر )
{ بَزیر (یائے مجہول) }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان میں اسم 'زیر' کے ساتھ 'ب' بطور سابقہ لگنے سے 'بزیر' بنا۔ اردو میں بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٨٣٠ء میں نظیر کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

متعلق فعل
١ - نیچے، تحت۔
 کیوں مال و زر کی حرص میں خود کو کرو ہلاک یہ زر نہ کام آئے گا کچھ بھی بزیر خاگ      ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ، ٩ )