برضا و رغبت

( بَرِضا و رَغْبَت )
{ بَرِضا و(واؤ مجہول) + رَغ + بَت }

تفصیلات


عربی اسما پر مشتمل مرکب عطفی 'رضا و رغبت' کے ساتھ فارسی حرف جار 'ب' بطور سابقہ لگنے سے 'برضا و رغبت' مرکب بنا۔ فارسی سے اردو میں ماخوذ ہے۔ ١٨٧٣ء میں عقل و شعور میں مستعمل ملتا ہے۔

متعلق فعل
١ - اپنی خوشی سے، اپنی مرضی کے مطابق۔
"مسلمان مجبور ہیں کہ اس موت کو برضا و رغبت یا بجبر و اکراہ قبول کریں۔"      ( ١٩٢٠ء، مضامین شرر، ١، ١٦٦:٣ )