استبشار

( اِسْتِبْشار )
{ اِس + تِب (کسرہ ت مجہول) + شار }
( عربی )

تفصیلات


بشر  اِسْتِبْشار

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٨٨٨ء کو "فصوص الحکم" کے ترجمے میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مجرد ( مذکر - واحد )
١ - بشارت، خوش خبری۔
"بدبختون کے چہرے کا سیاہ ہونا نیک بختون میں استبشار کے مقابلے میں ہے جو اللہ کے کلام میں مذکور ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، فصوص الحکم (ترجمہ)، ٨٧ )