اپیل

( اَپِیل )
{ اَپِیل }
( انگریزی )

تفصیلات


انگریزی زبان سے فعل امر اور حاصل مصدر کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ انگریزوں کی برصغیر آمد کے ساتھ ہی عام بول چال کی زبان میں داخل ہوا۔ آہستہ آہستہ تحریری صورت میں آیا، سب سے پہلے ١٨٧٩ء کو "انشائے خرد افروز" میں مستعمل ملتا ہے۔ انگریزی میں 'Appeal'

اسم حاصل مصدر ( مذکر، مؤنث - واحد )
جمع   : اَپِیلیں [اَپی + لیں (ی مجہول)]
جمع استثنائی   : اَپِیْلز [اَپِیْلز]
جمع غیر ندائی   : اَپِیلوں [اَپی + لوں (و مجہول)]
١ - درخواست، پرزور استدعا۔
"آپ نے مہاجرین اور انصار سے چندے کی اپیل کی۔"      ( ١٩٦٣ء، محسن اعظم و محسنین، ٥٧ )
٢ - [ قانون ]  عدالت ماتحت کے فیصلے کے خلاف بالاتر عدالت سے چارہ جوئی، مدافعہ۔
"فیصلہ کر دیا جاتا ہے، نہ کہیں مدافعہ ہے نہ اپیل۔"      ( ١٩٣٦ء، ریاض خیرآبادی، انتخاب فتنہ، ٥٦ )
  • درخواست
  • 'Appeal'