استغراق

( اِسْتِغْراق )
{ اِس + تِغ + راق }
( عربی )

تفصیلات


غرق  اِسْتِغْراق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو ولی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
١ - کسی فکر خیال یا کام میں غرق ہو کر سب کچھ بھول جانے کی کیفیت، گہری دلچسپی، محویت۔
 جب سے دیکھے ہیں یار کے احداق ہو گیا ہوں میں وقف استغراق      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٦:٢،٩ )
٢ - خدا کی صفات و اسما کے ذکر و فکر میں بے خودی کا عالم، مراقبہ۔
"تصوف کے مقامات میں سے اکثر مقامات ایسے ہیں جن سے جذبات کو تعلق ہے، مثلاً رضا، فنا، محویت، وحدت، استغراق۔"      ( ١٩١٤ء، شعرالعجم، ٥، ١٣٦ )
٣ - [ قانون ]  کسی جائیداد کا قرضے میں گھر کر تلف ہو جانا۔ (اردو قانونی ڈکشنری، 38)
٤ - کسی جنس یا نوع کے تمام افراد کا احاطہ۔
"الحمد، میں الف لام استغراق کا نہیں بلکہ تعریف جنس کا ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٩:٢٣ )
  • drowning;  the being immersed
  • absorbed or wholly engaged (in anything);  immersion;  lien;  mortgagee