اپھرنا

( اَپھَرْنا )
{ اَپھَر + نا }
( ہندی )

تفصیلات


ہندی زبان سے مصدر ہے اردو میں داخل ہوا۔ ١٨٠٣ء کو "رانی کیتکی" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل لازم
١ - پھولنا،ہوا بھرنے سے تن جانا۔
 واعظ شہر تنک آب ہے مانند حباب ٹک ہوا لگتی ہے اس کو تو اپھر جاتا ہے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٦٤٥ )
٢ - (بدہضمی یا حبس ریاح سے) پیٹ پھولنا، نفخ ہونا۔
"اتنا کھانا یا پینا کہ سانس پھولنے لگے اس کو بھی اپھرنا کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، ریاض، نثر ریاض، ١٥٠ )
٣ - [ مجازا ]  گھمنڈ کرنا، اترانا، اکڑنا۔
"سب سے بڑی بات یہ تھی کہ دولت دیکھ کر اپھری نہیں اور بیوی بن کر بگڑی نہیں۔"      ( ١٩١٩ء، شب زندگی، ١، ٤٦ )
٤ - ناخوش ہونا، منہ پھلانا۔
"چڑیا اسی طرح پھولی اپھری خاموش بیٹھی رہی۔"      ( ١٩٢٥ء، حکایات لطیفہ، ١،١٢١ )