اپھار

( اَپھار )
{ اَپھار }
( ہندی )

تفصیلات


اَپھَرْنا  اَپَھرنا  اَپھار

ہندی زبان کے مصدر 'اپھرنا' سے حاصل مصدر ہے۔ اردو میں ١٩٢٥ء کو محب المواشی میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم حاصل مصدر ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : اَپھارے [اَپھا + رے]
جمع   : اَپھارے [اَپھا + رے]
جمع غیر ندائی   : اَپھاروں [اَپھا + روں (و مجہول)]
١ - بدہضمی یا حبس ریاح وغیرہ سے انسان یا حیوان کا پیٹ پھولنے کی کیفیت، نفخ کی بیماری۔
"اگر دوا نے اثر کیا تو جانور کو فوراً ڈکار آوے گی اور اپھار اور مشکل سے سانس لینا کم ہو جائے گا۔"    ( ١٩٢٥ء، محب الحواشی، ٤٤ )
٢ - بدہضمی، غم و غصہ۔
"کانگرس کے پیٹ میں جو اپھار ثقیل قوانین نگلنے کی وجہ سے پیدا ہوا تھا، اب کم ہو گیا ہے۔"    ( ١٩٣٠ء، اودھ پنچ، لکھنؤ۔ ١٥، ٢٨، ١٠ )
٣ - [ کاشتکاری ]  کھلیان بنانے اور گاہنے سے پہلے اناج کی بالیوں اور پولیوں کا انبار، ڈھیر۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 5:6)