اسٹال

( اِسْٹال )
{ اِس + ٹال }
( عربی )

تفصیلات


انگریزی زبان کے لفظ 'Stall' سے ماخوذ ہے۔ برصغیر میں انگریزوں کی آمد کے ساتھ عام بول چال کی زبان میں استعمال ہوا۔ تحریری صورت میں ١٩٣٧ء کو "دیوانجی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم ظرف مکاں ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : اِسْٹالوں [اِس + ٹا + لوں (و مجہول)]
١ - چھوٹی دکان(بیشتر عارضی)، کسی عمارت میں سامان بیچے جانے کا کمرہ، سودا بیچنے کی میز یا تخت وغیرہ، جیسے : ریلوے اسٹیشن پر یا نمائش وغیرہ میں ٹی اسٹال، بک اسٹال وغیرہ۔
 خود تری بستی میں ہو جاتی ہے جب کافی کھپت لے کے اک اسٹال کھائے صرف کی کیوں تو چپت      ( ١٩٣٧ء، دیوانجی، ٤٩١:٣ )
  • stall