باوضو

( باوُضُو )
{ با + وُضُو }

تفصیلات


فارسی حرف جار اور عربی اسم سے مرکب ہے عربی زبان سے ماخوذ اسم 'وضو' کے ساتھ فارسی حرف جار 'با' بطور سابقۂ فاعلی لگنے سے 'باوضو' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٧٣٩ء میں "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
١ - [ اسلام ]  وہ شخص جس نے مقررہ طریقے سے عبادت کے لیے منھ ہاتھ وغیرہ دھویا ہو اور وہ ٹوٹا نہ ہو۔
"جس نے سنا ایک حرف خدا کی کتاب سے باوضو لکھی جائیں گی اس کے لیے دس نیکیاں۔"      ( ١٩٠٢ء، بہشتی زیور، ٦٣:٤ )